Topics
انسان کے اندر جب عقیدہ کمزور ہو جاتا ہے تو وہ طرح طرح کے وسوسوں میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ کبھی خیال آتا ہے میرے اوپر کسی نے جادو کر دیا ہے، کبھی سوچتا ہے کہ میرے اوپر کسی جن بھوت کا اثر ہے۔ شیطان اس کے دماغ میں یہ بات بھی ڈالتا ہے کہ اسے کسی کی بددعا لگ گئی ہے لیکن جب وہ خود اپنا محاسبہ کرتا ہے تو اس کے سامنے ایسی کوئی بات نہیں آتی جس کی بناء پر کوئی اسے بددعا دے۔ یہ بات بھی اس کی سمجھ میں نہیں آتی کہ اس کا کون دشمن ہے اس لئے کہ وہ خود کسی کے ساتھ برائی نہیں کرتا۔ اس قسم کے تمام وسوسوں اور کثیف خیالات سے محفوظ رہنے کے لئے رات کو سوتے وقت ایک سو گیارہ مرتبہ یَا قَابِضُ پڑھنا نہایت مفید اور مجرب عمل ہے۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
نماز اسلام کا ایک بنیادی رکن ہے۔ نماز ایک عاقل بالغ مسلمان پر فرض ہے ۔ اہل اسلام کو اس فرض کی بہتر طور پر ادائیگی کی ترغیب وتعلیم کے لئے اہل تصوف نے بہت علمی کام کیا ہے ۔ تصوف کی تقریباً تمام اہم کتابوں میں نماز کی اہمیت اور اس کے اثرات پر گفتگو کی گئی ہے ۔ ان کو ششوں میں اولیائے کرام کے پیش نظر یہ مقصد رہاہے کہ امت مسلمہ ذوق وشوق اورخشوع کے ساتھ اس رکن اسلام پر کاربندرہے ۔ سلسلہ عظیمیہ کے بزرگ بھی امت مسلمہ کے فرزندوں کو قائَم بالصلوٰۃ دیکھنا چاہتے ہیں ۔ اسی مقصد کے پیش نظر خواجہ شمس الدین عظیمی نے زیرنظر کتاب تحریر کی ہے ۔ اس کتاب میں نما زکی روحانی، ذہنی ، جسمانی ، نفسیاتی اورسائنسی فوائد بیان کرتے ہوئے نماز کی اہمیت اورغرض وغایت پر روشنی ڈالی ہے ۔ نیز انبیاء کرام علیہم السلام کی نماز ، خاتم النبیین رسول پاک ّ کی نماز ، صحابہ کرام اورصوفیائے کرام کی نماز کے روح پرور واقعات بھی پیش کئے گئے ہیں ۔