Topics
محمد رسول اللہ ایک بار مجلس میں تشریف فرما تھے ۔ ایک اونٹ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں اپنا سر رکھدیا ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا یہ اونٹ اپنے مالک کی شکایت کر رہا ہے ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اونٹ کو اس کے مالک سے خرید لیا۔
اونٹ نے شکایت کی
حضور علیہ الصلوۃ والسلام ایک انصاری کے باغ میں گئے تو ایک اونٹ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھ کر رونے لگا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور اس کی گردن پر پیار سے ہاتھ پھیرا ۔ اونٹ نے میٹھی میٹھی نظروں سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں اپنے مالک کی شکایت کی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اونٹ کا مالک کون ہے ۔ ایک انصاری نوجوان سامنے آیا ۔ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ اونٹ میرا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
کیا تو اس چوپائے کے بارے میں جس کا اللہ نے تجھے مالک بنایا ہے ۔ اللہ کو حاضر و ناظر نہیں جانتا۔ تیرے اونت نے شکایت کی ہے کہ تو اسے بھوکا رکھتا ہے اور کام زیادہ لیتا ہے۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرت پر ان گنت صفحات لکھے جاچکے ہیں اور آئندہ لکھے جاتے رہیں گے لیکن چودہ سوسال میں ایسی کوئی تصنیف منظر عام پر نہیں آئی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کی روحانی اور سائنسی توجیہات اور حکمت پیش کی گئی ہو ۔ یہ سعادت آپ کے نصیب میں آئی ہے ۔ ایک سعید رات آپ کو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں حاضری کا موقع ملا ۔ دربار رسالت میں ایک فوجی کی طرح Attention، جاں نثار غلاموں کی طرح مستعد، پرجوش اورباحمیت نوجوان کی طرح آنکھیں بند کئے دربار میں حاضر تھے۔
آہستہ روی کے ساتھ ، عشق و سرمستی کے خمار میں ڈوب کر دو قدم آگے آئے اور عرض کیا ،
یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !
بات بہت بڑی ہے، منہ بہت چھوٹا ہے ۔۔۔
میں اللہ رب العالمین کا بندہ ہوں اور۔۔۔
آپ رحمت للعالمینﷺکا امتی ہوں۔۔۔
یہ جرأت بے باکانہ نہیں، ہمت فرزانہ ہے۔۔۔
میرے ماں باپ آپ ﷺپر قربان ہوں ۔
یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !
یہ عاجز ، مسکین ، ناتواں بندہ ۔۔۔
آپ ﷺ کی سیرت مبارک لکھنا چاہتا ہے ۔۔۔
یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !
سیرت کے کئی پہلو ابھی منظر عام پر نہیں آئے۔۔۔
مجھے صلاحیت عطا فرماےئے کہ۔۔۔
میں معجزات کی تشریح کرسکوں۔
آپ نے بند آنکھوں سے محسوس کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ملاحظہ فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر مسکراہٹ ہے ۔ آپ اس سرمستی میں سالوں مد ہوش رہے ۔ خیالوں میں مگن ، گھنٹوں ذہن کی لوح پر تحریریں لکھتے رہے ۔ سیرت کے متعلق ہر وہ کتاب جو آپ کو دستیاب ہوسکی اللہ نے پڑھنے کی توفیق عطا کی اوربالآ خر ایک دن ایسا آیا کہ کتاب محمد رسول اللہ جلد دوئم کی تحریر کا آغاز ہوگیا۔